مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب صہیونی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم صہیونی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کے برطانوی فیصلے کے ردعمل میں مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے اور 12 برطانوی حکام کے مقبوضہ علاقوں میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے برطانیہ کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے لیبر پارٹی کی حکومت پر یہود دشمنی کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔
اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما یائیر لاپید نے بھی برطانوی فیصلے کو بڑی غلطی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت سفارتی سطح پر اسرائیل کو بے مثال تنہائی کا شکار بنانے کی ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے برطانیہ کی پابندیوں کو اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔ اسرائیل میں عام انتخابات آئندہ 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔
برطانیہ نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم صہیونی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔
آپ کا تبصرہ